پینتگ فار سیل

paintings For Sale
نعمان خان نومی

اس کا اسٹوڈیو گیلری ہی میں تھا۔
گیلری میں رنگوں کی باس , پینٹنگز دیواروں پر اڑھے ترچھے ایسے لٹکے تھے
جیسے برسہا برس منتشر یادیں۔
وہ ایک عام دوپہر کی طرح اج بھی سٹوڈیو کے اندر کام میں مگن تھا
باہر گاڑی رکنے کی اواز آئی ایک لمبا ترنگا بزرگ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
وضع قطع سے وہ کوئی عام انسان نہیں لگ رہا تھا
اس کے چہرے پہ مصنوعی رعب کیساتھ کرختگی اور لباس کی نفاست سے یہ انداز ہ لگانا اسان تھا کہ موصوف کوئی ریٹائرڈ بیوروکریٹ یا ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا ہے ۔
جو ہر قدم پراپنی زندگی کے فیصلوں کی چھاپ لیے چلتا تھا۔
دور سے پینٹنگز کا نظارہ کیا،
پھر مختصر سا سوال کیا:
“ایک پینٹنگ کتنے کی ہے؟”
بظاہر مختصر ، مگر چبھنے والا سوال تھا جس کی اسے عادت ہو گئی تھے کہ یہ معمول بن گیا ھے ۔
آس نے بے دلی سے
صرف ہاتھ کے اشارہ سےاس کی توجہ
پینٹنگ پر لگی ٹیگ کی طرف مبذول کرائی۔
ٹیگ پر لکھی دھندلی لکھائی دیکهنے وہ نزدیک گیا
اپنا قیمتی چشمہ نکالا،اور کن انکھوں سے ہر ایک ٹیگ کو باری باری دیکھنے لگا—
ہر ٹیگ کو دیکھ کر
چہرے کے تاثرات بگڑتے گئے۔
پہلے بھنویں اوپر اٹھیں،
پھر آنکھیں سکڑ گئیں،
آخرکار ایک ہلکی سی کھنکار کے ساتھ
اس نے ہڑبڑا کر کہا “ان کی قیمتیں کچھ عجیب ہیں”
میں پھر اونگا فی الحال میں کسی تقریب میں جا رہا ہوں
آرٹسٹ نے خاموشی سے اس کے چہرے کیطرف دیکھا،
اس کے چہرے کے پیچھےایک پوری ریاست اور سوسائٹی کا بے اعتنائی والا مکروہ چہرہ نظر آنے لگا،
جو ہر چیز کو ریٹ میں بدل دیتی ہے۔
اس نے آہستگی سے کہا
“جناب… یہ صرف پینٹنگ نہیں ہے۔”
وہ سن کر مسکرایا،
مسکراہٹ میں بھی کرختگی تھی:
“میں سمجھتا ہوں… لیکن… آخر ہے تو پینٹنگ ہی نا۔”
یہ جملہ
آرٹسٹ کے اندر
کسی کیل کی طرح اترا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر اس نے کہا:
آخر ہم بھی تو آرٹ کے شوقین ہیں۔”
آرٹسٹ مسکرا اٹھا اس کی مسکراہٹ میں وہی پوری سوسائٹی پر طنز تھا
شوقین وہ ہوتا ہےجو آرٹ کی قیمت نہیں پوچھتا بلکہ آرٹ کو انمول سمجھتا ھے ،مگر آپ ایسے آرٹ کو بوجھ سمجھتے ہیں ،
اس نے دل ہی دل میں جواب دیا
ادمی نے رومال نکالا،
پیشانی کا پسینہ صاف کیا،
جیسے اس نے سن لیا ہو
“میں… واپس آؤں گا۔” یہ کہہ کر
تیزی سے باہر نکل گیا،
جیسے قیمتیں نہیں
اپنا ضمیر دیکھ کر گھبرا گیا ہو۔
دروازہ بند ہوا
تو کمرے میں خاموشی اتر گئی۔آرٹسٹ آہستہ آہستہ پینٹنگز کے پاس گیا،ایک پینٹنگ کی ٹیگ نیچے گر چکی تھی۔اس نے جھک کر ٹیگ اٹھایا،دھندلی لکھائی پر انگلی سے گرد و غبار صاف کیا،اور الفاظ آہستہ آہستہ واضح ہوئے:
قیمت : دس کلو اٹا
آرٹسٹ نے ٹیگ کو دوبارہ پینٹنگ کے ساتھ چسپاں کیا،ہاتھ پیچھے کھینچا،اور اس لمحے اسے لگا…
کسی نے اس کے دل کی دیوار پہ بھی زور سے کوئی چیز چسپا ں کر دی ۔
اس کی نظر دروازے کیساتھ
پرانےبورڈ پر پڑی ،اس پہ موٹے حروف میں لکھا تھا
“Painting For Sale”
آرٹسٹ نے اسے اٹھایا،
کچھ دیر پکڑے رکھا،
پھر ایک کھونے میں الٹا کرکے رکھ دیا،
جیسے اپنی روح کو
بازار سے واپس لے آیا ہو۔
اس دن، پہلی بار اسے احساس ہوا :
اس کی پینٹنگ، اس کی محنت،
اس کا کرب
نہ بیچا جا سکتا ھے ، نہ اس قیمت کم کی جا سکتی ھے ۔
وہ کرسی پر بیٹھ گیا،
اور اپنی پینتنگ کے پرائز ٹیگ دیکھنے لگا جن پر پانچ کلو گھی. تین ماہ کی بچوں کے سکول کی فیس، مکان کا کرایہ. اسی اثناء میں وہ کرسی سے اٹھا اور ایک پینٹنگ کو الٹا کرکے کرکے رکھ دیا جس پر اس گھر کے معمولات کے اخراجات میں سے کوئی پرائز ٹیگ نہیں تھا بلکہ اس کی ذات کے ساتھ جڑا ٹیگ تھا یعنی
“ایک ماہ کی چائے”