نئی کہانی – اسٹیٹس

نئی کہانی – اسٹیٹس

اس کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی اور گہرا دکھ واضح نظر آرہا تھا۔ شاید وہ اپنی عمر سے بھی زیادہ جی چکا تھا۔ یا اس کی جینے کی تمنا دم توڑ رہی تھی۔
بزرگو۔۔ آپ يہاں اس حال میں کس طرح پہنچے؟
بس پتر لمبی کہانی ھے
بتائیں بابا جی۔۔
بیٹا کبھی میں بھی کسی ہنستے بستے گھر کا فرد بلکہ مالک تھا۔ بس پھر تقدیر پلٹ گئی۔
ایسا کیا ہوا تھا بابا؟
پتر میرا بھی ایک بیٹا تھا۔ تیرے جتنا ہی ہوگا۔ میں نےبیٹیوں کا حصہ بھی سارا اس کے نام لگا دیا تھا۔ میرا غرورتھا وہ ۔
آنکھوں کی ویرانی کی جگہ چمک آگئی مگر پھر قطرے پانی کے گرنے لگے۔۔
بابا ایسا کیا ہوا پھر جو تم کو اس اولڈ ہوم میں رہنا پڑ رہا ہے ؟
پتر ہم نے ہر چیز بیٹے کے نام کردی۔ اونچے خاندان میں بیاہ کیا
اس کا۔ اس کا تو اسٹیٹس ہی بدل گیا۔ ہر چیز بدل ڈالی اس نے گھر کی ۔ جو پرانی تھی۔
پھر بابا؟
ہم بھی تو پرانے ہی تھے نا پترا۔۔
بزرگ نے بمشکل کہا
پھر کہنے کو کچھ نہ رہا۔۔