غزل
برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی سرو ہے بامزید پڑھیں
برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی سرو ہے بامزید پڑھیں
عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوئےمزید پڑھیں
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی بات بے بات ہنستی ہوئی اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیںمزید پڑھیں
اپنے سرد کمرے میں میں اداس بیٹھی ہوں نیم وا دریچوں سے نم ہوائیں آتی ہیں میرے جسم کو چھو کر آگ سی لگاتی ہیںمزید پڑھیں
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں جو پہنا دو مجھ پہمزید پڑھیں
مجھے مت بتانا کہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا تو کیوں اور کس وجہ سے ابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھیمزید پڑھیں
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیںمزید پڑھیں
لڑکی سر کو جھکائے بیٹھی کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے لڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل لانبی پلکوں کے لرزیدہمزید پڑھیں
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میںمزید پڑھیں
اس عمر کے بعد اس کو دیکھا! آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں ہونٹوں پہ مگر وہی تبسم! چہرے پہ لکھی ہوئی اداسی لہجے میں مگرمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے