غزل

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے آج مگر اک نارمزید پڑھیں

غزل

ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نےمزید پڑھیں

غزل

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینامزید پڑھیں

غزل

لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے ان لوگوں کی باتمزید پڑھیں

غزل

جنگل جنگل شوق سے گھومو دشت کی سیر مدام کرو انشاؔ جی ہم پاس بھی لیکن رات کی رات قیام کرو اشکوں سے اپنے دلمزید پڑھیں

غزل

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی خوش طلعتی و گل پیرہنی مرے دل کی تو پیاس کبھی نہ بجھی مرے جی کی تو باتمزید پڑھیں

غزل

اس کو نام جنوں کا دے لو پیار کہو کہ دلار کہو ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار کہو بستی میں دیوانہ سمجھومزید پڑھیں

غزل

گوری اب تْو آپ سمجھ لے ہم ساجن یا دشمن ہیں گوری تو ہے جسم ہمارا ہم تیرا پیراہن ہیں نگری نگری گھوم رہے ہیںمزید پڑھیں

نظم(لا الہ الا اللہ)

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنممزید پڑھیں

نظم (جاوید کے نام)

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو سکوت لالہمزید پڑھیں