نظم ( طلوع اسلام)

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتےمزید پڑھیں

نظم (اک آرزو)

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتامزید پڑھیں

نظم (ترانہ ہندی)

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں سمجھومزید پڑھیں

غزل

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاںمزید پڑھیں

غزل

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے خودی کو کر بلندمزید پڑھیں

غزل

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوںمزید پڑھیں

غزل

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش ہو تو نوامزید پڑھیں

غزل

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھیمزید پڑھیں

در تہنیت صحت

مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سست ہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چست خبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کیمزید پڑھیں

غزل

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسارمزید پڑھیں