غزل
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوںمزید پڑھیں
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوںمزید پڑھیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کےمزید پڑھیں
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب دل نے بھیمزید پڑھیں
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سےمزید پڑھیں
متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا دم بھرتی ہے آرزو اسی کا ہر ذرۂ سر زمین گوکل دارا ہے جمال دلبری کا برسانا و نندمزید پڑھیں
پھر یاد جو آئی ہے مدینے کی بلانے کیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نے ایسا ہے تو پھر فکر ہے کیوں زادمزید پڑھیں
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگرمزید پڑھیں
ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرار چوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسامزید پڑھیں
خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا وہ سانولے پن پر میداںمزید پڑھیں
اے وطن پاک وطن روح روان احرار اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار اےمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے