نظم ( ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب)

کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرو دہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کرو جس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہےمزید پڑھیں

نظم (مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے خط)

اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہن عقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمن حشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنمزید پڑھیں

نظم (البیلی صبح)

نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے روش روش نغمۂمزید پڑھیں

نظم (رشوت)

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئے یہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئے اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لتمزید پڑھیں

نظم (اپنی ملکئہ سخن سے)

اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزو اے مہر ناز و ماہ شبستان آرزو اے جان درد مندی و ایمان آرزو اے شمع طور ومزید پڑھیں

نظم (شکستِ زنداں کا خواب)

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آمزید پڑھیں

نظم(کسان)

جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطراب کھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغ دورمزید پڑھیں

رباعی

آن را کہ تو عقبیٰ شمری عقبیٰ نیست یعنی جائے تقرب مولیٰ نیست وصف جنت شنیدہ ای عبرت گیر ہرجا زر و گوہریست جز دنیامزید پڑھیں

رباعی

صد شکر کہ نشگافت یقین سینۂ ما برجا است ہماں سینۂ بے کینۂ ما تا آب نگردیم ز شرم ہستی ما را ننمودند در آئینۂمزید پڑھیں

رباعی

اسمائے ظہور بانگ ناقوس دلست اشیا ہمہ اعتبار محسوس دلست ہر ذرہ درین دشت چراغے دارد یعنی ایں جملہ چشم جاسوس دلست (ترجمہ) اسما ناقوسمزید پڑھیں