رباعی
جائے کہ تمیز از حق و باطل نیست
غیر با طبع ہیچ کس شامل نیست
دیوثی را ز ننگ و فعلش گفتند
گفت این دولت نصیب ہر غافل نیست
(ترجمہ)
اییو جگہ جہاں حق اورباطل کے درمیان فرق کیا ہو
وہاں سوائے فطرت کےکوئی بھی نہیں رہتا
دیوث کو دیوث اس کے نام اور کام کی وجہ سے کہاجاتا ہے
اس نے کہا کہ یہ دولت ہرغافل کونصیب نہںی ہوتی
Load/Hide Comments