قطعہ

یا تو بس جسم ہوں سائے سے لگا بیٹھا ہوں
یا میں سائہ ہوں پس جسم چھپا بیٹھا ہوں
مانگنا کچھ بھی نہیں یاد دلانا تھا تجھے
ساقیا میں بھی تہہ دست عطا بیٹھا ہوں
کس بھروسے پہ کروں اندھا بھروسا خود پر
میں بھی تو شہر کے لوگوں میں اُٹھا بیٹھا ہوں